ابنا: مصري عوام ، گزشتہ حکومت کي وراثت فوجي اقتدار کے خاتمے کا پرزور مطالبہ کررہے ہيں۔ قاہرہ کے التحرير اسکوائر پر ايک بار پھر عوامي سيلاب امڈ پڑا ہے اور ہزاروں مصري ، کئ امور پر اپنے خيالات کے اظہار نيز مطالبات کے لئے اس اسکوائر پر اکٹھا ہو رہے ہيں۔مصر کے معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک کے خلاف نرم عدالتي فيصلے پر عوامي غم و غصہ بھي التحرير اسکوائر پر جاري مظاہرے کا ايک سبب ہے۔
مصري عوام عدالتي فيصلے کي مخالفت کر رہے ہيں اور ان کا کہنا ہے کہ حسني مبارک کے خلاف عدالت کے ہلکے فيصلے سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک کي عدليہ نے اس مقدمے ميں آزادانہ طور پر فيصلہ نہيں کيا ہے اور حسني مبارک کے جيل ميں ہونے کے باوجود اس کے پٹھو بدستور اقتدار ميں موجود ہیں۔
مصر کے مظاہرين ، حسني مبارک کے خلاف عدالتي فيصلے کي مخالفت کے علاوہ ، مصر ميں صدارتي انتخابات کے دوسرے دور سے احمد شفيق کو ہٹائے جانے کا بھي مطالبہ کر رہے ہیں۔ حسني مبارک کے دور اقتدار ميں وزارت عظمي کا عہدہ سنبھالنے والے احمد شفيق کو پہلے دور کے صدارتي انتخابات ميں اخوان المسلمين کے اميدوار محمد مرسي کے بعد سب سے زيادہ ووٹ ملے ہيں۔ مصر کے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ احمد شفيق کو دوسرے مرحلے ميں پہنچايا گيا۔ مصر کے عوام کو خدشہ ہے کہ احمد شفيق کے اقتدار ميں پہنچنے کي صورت ميں مصر کا عوامي انقلاب سبوتاژ ہو سکتا ہے۔
التحرير اسکوائر پر مظاہرہ کرنے والے مصري عوام کا خيال ہے کہ ان کا انقلاب ابھي اپنے اہداف سے دورہے یہی وجہ ہے کہ مصر کي بہت سي سياسي اور انقلابي تنظيموں اورجماعتوں نے حاليہ مظاہروں کي حمايت کي ہے اور بہت سي سياسي و انقلابي تحريکيں ، عوامي مظاہروں سے جڑ گئ ہيں۔ مصري عوام اس بات پر زور دے رہے ہيں کہ وہ اپنے انقلاب کي مکمل کاميابي تک سڑکوں پر مظاہروں کا سلسلہ جاري رکھيں گے۔
در ايں اثنا مصر کے ڈيموکريٹک فرنٹ کے سربراہ نے آئين ساز اسمبلي کي تشکيل کے بارے ميں اعلي فوجي کونسل اور اخوان المسلمين کے درميان اختلافات کي خبر دي ہے۔ السعيد کامل نے کہا ہے کہ بر سر اقتدار فوجي کونسل اور اخوان المسلمين کي آزادي و انصاف پارٹي کے درميان آئين ساز اسمبلي کي تشکيل کے اصول و ضوابط کے بارے ميں اختلاف ہے۔ انہوں نے بتايا کہ فوجي کونسل نے آزادي و انصاف پارٹي کو چھوڑ کر اٹھارہ سياسي جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ايک اجلاس منعقد کيا جس کے دوران آئين ساز اسمبلي کي تشکيل پر غور و فکر کيا گيا اور ان پارٹيوں کو سات جون تک آئين ساز اسمبلي کے بارے ميں اتفاق رائے تک پہنچنے کا وقت ديا گيا۔
مصر کے ڈيموکريٹيک فرنٹ کے سربراہ نے بتايا ہے کہ بر سر اقتدار فوجي کونسل نے سياسي جماعتوں سے کہا ہے کہ اگر وہ آئين ساز اسمبلي کي تشکيل کے بارے ميں اتفاق رائے تک نہيں پہنچيں تو سن انيس سو اکہتر ميں منظور شدہ آئين پر وقتي طور پر عمل در آمد کيا جائے گا۔
موجودہ حالات ميں مصر ميں ترسٹھ شقوں والے عارضي آئين پر عمل در آمد ہو رہا ہے۔ مارچ دو ہزار گيارہ ميں ريفرنڈم کے ذريعے منظور کئے گئے اس آئين کے مطابق پارلمينٹ کا فريضہ ہے کہ وہ ، نئے آئين کي تشکيل کے لئے سو اراکين کے ساتھ آئين ساز اسمبلي تشکيل دے۔.......
/169